پٹنہ ، 6/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی ) بہار میں پُل منہدم ہونے کے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں، اور اب اس تعلق سے بڑی کارروائی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بہار حکومت نے 15 انجینئرس کو کام میں لاپروائی کے پیش نظر معطل کر دیا ہے۔ دو انجینئرس سے وضاحت بھی طلب کی گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جن انجینئرس کو معطل کیا گیا ہے ان میں محکمہ دیہی امور کے 4 اور محکمہ آبی وسائل کے 11 انجینئرس ہیں۔ 2 ایگزیکٹیو انجینئرس، 4 اسسٹنٹ انجینئرس، 2 جونیئر انجینئر سمیت 15 انجینئرس کے لیے معطلی کا پروانہ جاری کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں کنسٹرکشن کمپنی ’ماتیشوری‘ کو حکومت نے بلیک لسٹ کر دیا ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق جانچ کمیٹی کے ذریعہ محکمہ آبی وسائل کو جو جانچ رپورٹ سونپی گئی ہے، اس کو پیش نظر رکھتے ہوئے انجینئرس کے خلاف کارروائی ہوئی ہے۔ محکمہ آبی وسائل کے ایڈیشنل چیف سکریٹری چیتنیہ پرساد نے کہا کہ جانچ میں انجینئرس کی لاپروائی اور نگرانی کو مشتبہ پایا گیا ہے۔ اس وجہ سے ریاست میں کئی چھوٹے پُل منہدم ہو گئے۔ پُل منہدم ہونے کے یہ واقعات سیوان، سارن، مدھوبنی، ارریہ، مشرقی چمپارن اور کشن گنج ضلع میں دیکھنے کو ملے ہیں۔
واضح رہے کہ پُل گرنے کے مختلف واقعات پر آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو لگاتار ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ پارٹی کے یومِ تاسیس کے موقع پر جمعہ کے روز بھی انھوں نے نتیش حکومت پر حملہ کیا اور حکومت و بی جے پی کو چیلنج پیش کرتے ہوئے کہا کہ پُل تعمیر کو ملنے والی منظوری، ٹنڈر، سنگ بنیاد، افتتاح کی تاریخ جاری کریں۔ اس سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا کہ یہ پُل کس کی حکومت میں تعمیر ہوئے ہیں۔ دراصل کچھ جنتا دل یو اور بی جے پی لیڈران نے دعویٰ کیا ہے کہ جو پُل منہدم ہوئے ہیں وہ اس وقت تعمیر ہوئے جب اس کا شعبہ تیجسوی یادو کے ذمہ تھا۔ اب تیجسوی نے دعویٰ کیا ہے کہ بہار میں جو بھی پُل گر رہے ہیں وہ سبھی تب تعمیر ہوئے تھے جب یہ محکمہ جنتا دل یو کے پاس تھے۔